الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قطرہ کا حکم

سوال

مجھے عارضہ قطرہ کا ہے کبھی دو دو ماہ برابر آتا رہتا ہے کبھی دو دو تین تین ماہ نہیں آتا بعض اوقات اچھی طرح وضو کر کے نماز پڑھتا ہوں قطرہ کا گمان بھی نہیں ہوتا لیکن نماز پڑھتے ہوئے قطرہ نکل جاتا ہے۔ ایسی حالت میں کیا صورت اختیار کرنی چاہئے۔ آیا نیت توڑ کر وضو کر کے جماعت میں شامل ہوں یا ویسے ہی پڑھتا رہوں اور بعد نماز کپڑے پاک کرنا چاہئے یا نہیں؟

جواب

اگر آپ شرعاً معذور نہیں تو قطرہ آنے سے نماز ٹوٹ جائے گی فوراً نیت توڑ کر وضو کرنا چاہئے اور کپڑا بھی پاک کرنا چاہئے اگر شرعاً معذور ہیں تو نماز نہیں ٹوٹی، بہشتی زیور حصہ اول میں معذور کی تعریف اور احکام دیکھئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو