جس کو منی برابر نکلتی رہتی ہو اس کا حکم
سوال
زید کو ہر وقت منی آتی رہتی ہے شروع شروع میں تمام نماز کے اوقات میں نہیں آتی تھی لیکن اب تقریبا تمام نماز کے اوقات میں آتی رہتی ہے لیکن نماز کے پورے وقت میں نہیں آتی بلکہ وقت کے کسی حصہ میں آگئی اور کسی حصہ میں رک گئی اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک دو وقت خالی بھی چلا جاتا ہے لیکن وہ وقت بھی مشتبہ رہتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک دو وقت خالی گذرے ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ایسے شخص کو معذور شرعی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
ان حالات میں یہ شخص شرعاً معذور نہیں ہر مرتبہ خروج منی اسکے حق میں ناقض وضو ہے بدن کو پاک صاف کر کے روئی اندر رکھ لے، اس طرح نماز پڑھ لے جب روئی پر تری ظاہر ہوگئی تب وضو ٹوٹے گا اور حکم لگایا جائے گا ناقض وضو ہونے کا
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔