اگر قطرہ آنے کا احتمال ہو تو کیا کرے!
سوال
ایک شخص کو نماز میں کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ذکر سے پیشاب کا قطرہ نکل رہا ہے مگر یقین حاصل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ نماز کی حالت میں معائنہ کی کوئی شکل نہیں ہے تو کیا شخص محض اس خیال کی وجہ سے نماز کو چھوڑ کر دوبارہ وضو کر لے اور اگر نماز کو جاری رکھے تو اس کی نماز صحیح ہوگی؟
جواب
اگر تجربہ ہے کہ یہ صرف متخیل ہے، واقعہ قطرہ نہیں تو نماز کو توڑنے کی ضرورت نہیں اگر تجربہ ہے کہ واقعتہ قطرہ ہے تو نماز کو توڑ کر دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔