قطره
سوال
اگر کسی کو نماز کے اندر یا نماز سے پہلے پیشاب کے قطرہ آجانے کا شبہ ہوا تو ہر دوصورت میں کیا عمل کرنا چاہیئے آیا وضو وہی رہے گا یا تازہ کرنا پڑے گا قطرہ کا آنا یقینی معلوم نہیں ہوا کہ آیا یا نہیں اور اس وقت دیکھ بھی نہیں سکتا۔
جواب
اگر وہ شخص شرعاً معذور نہیں تو قطرہ آنے سے وضو اور نماز دونوں ٹوٹ جائیں گے جب قطرہ آئے فوراً نیت توڑ دے اور یہ اس وقت ہے کہ قطرہ کا آنا یقین سے معلوم ہو جائے اور محض شبہ سے کچھ نہیں ہوتا نہ نماز ٹوٹتی ہے نہ وضو اور شبہ کا علاج یہ ہے کہ وضو کے بعد رومالی پر پانی کا چھینٹا دے لیا کرے لیکن اتنا خیال رہے کہ اگر قطرہ آیا تو نماز اور وضو ٹوٹنے کے علاوہ رومالی بھی ناپاک ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔