الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نا پاک کنویں کا پانی حمام میں بھرا گیا حمام کے پاک کرنے کا طریقہ؟

سوال

(۱) کنواں نجس ہو گیا اس کا پانی حمام میں گیا لوٹوں سے بھی وضو کیا گیا مسجد کے بوریوں پر بھی پانی پہونچا اور وہ پانی یقینا نجاست کے وقت کا ہے تو یہ سب اشیاء نا پاک ہو گئیں یا نہیں؟ (۲) اور کس طرح پاک ہوں خصوصاً تطہیر حمام کا طریقہ ضرور تحریر کیا جائے؟ (۳) اگر کچھ روز تک پانی حمام میں ٹھہر ارہے اور برتن کے ذریعہ سے پانی نکالتے رہیں لیکن ایسا کہیں نہیں ہوا کہ سارا پانی نکال کر خشک کیا گیا بلکہ دو چار چلو پانی ہمیشہ باقی رہ جاتا ہے تو لوٹے اور حمام اور نکالنے کا برتن پاک ہو گیا یا نہیں؟ (۴)

جواب

(۱) اگر نجاست بئر کے علم ہونے کے بعد نجس پانی بھرا اور استعمال کیا گیا تو یہ سب چیزیں ناپاک ہو گئیں۔ ہرشی پر تین دفعہ پانی بہادیا جائے، بس پاک ہو جائیں گی جوشی نچوڑی جاسکے اسے نچوڑا یا خشک کرنا چاہئے۔ حمام کے پاک کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس میں پانی بھر کر نکالد یا جائے، جو ایک دو چلو باقی رہے اس کو کسی کپڑے سے صاف کر دیا جائے، اگر حمام میں صاف کرنے کا راستہ نہ ہو تو اتنا توقف…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو