نا پاک کنواں میں ڈول ڈالنے سے ناپاک ہو جائے گا؟
سوال
(۱) ایک کنویں میں بندر نے پائخانہ کیا اس کے پاک کرنے سے پہلے ایک شخص نے ضرورت کی بنا پر پانی نکالا پھر اس کا تمام پانی اس ڈول رسی کے علاوہ دوسرے سے نکال دیا اب قابل دریافت امر یہ ہے کہ اگر اس ڈول رسی کو جو کہ سورج سے خشک ہو چکی اس کو بغیر دھوئے استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں اور یہ حکم دونوں نجاست کا ہے یا فقط غلیظہ کا۔ (۲) اور یہ بھی واضح فرمادیں کہ نجاست غلیظہ یا خفیفہ کے گرنے کے بعد پانی نجاست غلیظہ ہوتا ہے یا خفیفہ۔ مع حوالہ کتب اور عبارت نقل فرما کر مشکور فرمادیں۔
جواب
بغیر پاک کئے اس ڈول رسی کا استعمال درست نہیں، نا پاک پانی نے اس کو نا پاک کر دیا اب اس کو پاک کرنے کے لئے پانی سے دھونا ضروری ہے خشک ہونا کافی نہیں۔ نجاست خفیفہ اور غلیظہ ہر دونوں کا حکم پانی کے حق میں ایک ہے۔ خفت کا فرق کپڑے اور بدن پر ظاہر ہوتا ہے، پانی پر نہیں پانی بہر صورت نجاست غلیظہ ہو جاتا ہے پھر جس شئی کو یہ پانی لگے گا اس پر بھی نجاست غلیظہ کا حکم جاری ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔