الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالٹی میں ناپاک کپڑا دھو کر بغیر پاک کئے کنویں میں بالٹی ڈال دی

سوال

میں نے ناپاک کپڑے کو پاک کرنے کی غرض سے کنویں سے بالٹی میں پانی نکال کر کپڑے کو اٹھایا کہ اتفا قا دو چار قطرے پانی اس ناپاک کپڑے سے ٹپک کر بالٹی میں پڑ گیا پانی تو میں نے اس بالٹی کا پھینک دیا مگر بے خیالی میں اس بالٹی کو تین مرتبہ دھوئے بغیر میں نے کنویں میں ڈال دیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں کنواں پاک رہا یا نا پاک ہوگا، یہ کنواں مسجد کا ہے اس کی ایک الگنی ہے جس پر پاک و نا پاک ہر قسم کے کپڑے سکھائے جاتے ہیں، اس الگنی کا کیا حکم ہے؟ کیا ہم ایسے پاک کپڑے اس الگنی پر سوکھنے کے لئے ڈال سکتے ہیں؟

جواب

اگر نا پاک کپڑا بالٹی میں ڈال کر دھو کر نکالا اور بغیر پاک کئے بالٹی کنویں میں ڈال دی تو کنواں ناپاک ہو گیا، سب پانی نکالنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے اسکے پانی سے وضو کر کے جو نمازیں پڑھی گئی ہیں ان کا اعادہ کیا جائے اور جس کپڑے یا بدن کو ایسا پانی لگا ہے اسکو بھی پاک کیا جائے۔ مسجد کے فرش پر بھیگا پیر رکھا ہو پھر وہ فرش خشک ہو گیا تو اس کو پاک کرنے کی ضرورت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو