الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گہرے کنویں میں غسل کرنا !

سوال

ہمارے گاؤں میں گرام پنچائت نے ایک کنواں تیار کیا ہے جو دس فٹ چوڑا ہے اور ۲۰ تا ۲۵ فٹ گہرا ہے اس میں لوگ اتر کر نہاتے ہیں جس میں مسلمان بھی ہوتے ہیں اور ہندو بھی اور عیسائی بھی کیونکہ یہ مشترکہ کنواں ہے یہاں کے چند مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس میں غسل کرنے والے کا غسل نہیں ہوتا اور اس کی نماز نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ پاک ہو سکتا ہے کیونکہ کنویں کے اندر نہانے والے ہو سکتا ہے پیشاب پاخانہ کرتے ہوں یا اپنی نجاست کی لنگی پاک کرتے ہوں، کیا واقعی اتنے بڑے کنویں میں غسل کرنے سے مسلمان پاک نہیں ہو سکتا؟

جواب

دس فٹ چوڑا کنواں یا تالاب ماء جاری کے حکم میں نہیں آئے گا، اس میں نا پاک لنگی پہن کر آدمی اترے گا یا اس کے بدن پر نجاست لگی ہوگی تو کنواں ناپاک ہو جائے گا نہ غسل صحیح ہوگا نہ اس کا پانی استعمال کرنا درست ہو گا۔ ہاں اگر اس کو نا پاک نہ کیا گیا تو ڈول کے ذریعہ پانی نکال کر غسل کرنا اور دوسرے کام میں لانا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو