معتکف کا کن مجبوریوں کی وجہ سے مسجد سے نکلنا درست ہے؟
سوال
بعض حالتوں میں معتکف کا مسجد سے نکلنا ضروری ہوتا ہے، ان حالتوں میں سنتِ مؤکدہ کی ادائیگی کی کیا سبیل ہوگی؟ معتکف کا انتقال ہو گیا، پاگل ہو گیا، پولیس پکڑ لے گئی مسجد میں آگ لگ گئی، فساد ہو گیا، جان کے خوف سے مسجد سے بھاگ گیا، طبیعت خراب ہوگئی، پیشی مقدمات کی آگئی، بیوی یا بچہ کا انتقال ہو گیا۔
جواب
اگر ہر مسجد ومحلہ میں اعتکاف کا اہتمام ہو اور کسی ایک کو اس قسم کا حادثہ پیش آجائے تو بقیہ کا اعتکاف تو پورا ہو جائے گا اور سنت علی الکفایہ ادا ہو جائے گی، مسجد میں آگ لگنے یا فساد ہونے سے اگر وہاں سے نکل کر فوراً دوسری مسجد میں چلا گیا تو اعتکاف فاسد نہیں ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔