معتکف کا خارج مسجد بات کرنا
سوال
کیا معتکف کا مسجد میں پیشاب یا پاخانہ کی جگہ تک راستہ میں بات کرنا جائز نہیں، اگر بات کرے گا تو اعتکاف باطل ہو جائے گا، اور اس طریقہ پر سلام کا جواب دینا بھی جائز نہیں، اگر ایک آدھ بات کر لی تو کیا اس صورت میں بھی اعتکاف کا بطلان لازم آئے گا؟
جواب
اس سے اعتکاف باطل نہیں ہوگا: وَلا يخرج من معتكفه إِلَّا لِحَاحَةٍ شرعية او طبعية اى يدعو اليها طبع الانسان ولو ذهب بعد ان خرج اليها لعيادة مريض او صلووة جنازة من غير ان يكون لذلك قصداً جاز بخلافما اذا خرج لحاجة الانسان ومكث بعد فراغه فانه ينتقض اعتكافه عند الامام ا هـ (طحطاوی علی مراقي الفلاح ص : ۴۳۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔