اعتکاف مسنون توڑ دینے سے اس کی قضاء
سوال
رمضان المبارک میں بالخصوص عشرہ اخیرہ میں اعتکاف شروع کر دینے کے بعد لازم ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اگر چھوڑ دے تو قضاء لازم ہوگی یا نہیں؟ صلوۃ پر قیاس کرتے ہوئے کہ نوافل شروع کر دینے کے بعد لازم ہو جاتا ہے چھوڑ دینے پر قضاء لازم ہوتی ہے یا نہیں؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کہ عشرہ اخیرہ میں جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وحضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اعتکاف کے لئے خیمے مسجد میں لگا دیئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام خیموں کو مسجد سے باہر کر دیا اور توڑ دیا، اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا…
جواب
ظاہر نظر کا یہی تقاضا ہے جو آپ نے کہا، تاہم الاشباہ والنظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت مؤکدہ کو شروع کر کے اگر توڑ دے تو اس کی قضاء لازم نہیں، عشرہ اخیرہ کا اعتکاف بھی مؤکدہ ہے، گو علی الکفایہ ہے: ومقتضى النظر انه لوشرع في المسنون اعنى العشر الاواخر بنيته ثم افسده ان يجب قضائه تخريجاً على قول ابي يوسف رحمة الله عليه في الشروع في نفل الصلوة ناويا أربعًا لا على قولهما (فتح القدير…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔