الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اعتکاف میں غسل میت کے لئے نکلنا مستورات کے اعتکاف مسنون ٹوٹ جانے پر قضاء کا حکم

سوال

میں ۲۰ / رمضان المبارک کو اعتکاف میں بیٹھ گئی، ۲۲ / رمضان المبارک ۱۱ بجے دن میں میری بھتیجی کی وفات ہوگئی جس میں اپنے بھائی کے گھر جو چند گز کے فاصلہ پر ہے، چلی گئی اور بھتیجی کو غسل دے کر کفن وغیرہ پہنا کر جب جنازہ گھر سے چلا گیا واپس میں اپنے گھر چلی آئی اور پھر اعتکاف میں بیٹھ گئی، اپنے بھائی کے گھر جب تک رہی ان لوگوں کو صبر دلاتی رہی، اور سمجھاتی رہی، اب سوال یہ ہے کہ میرا اعتکاف صحیح ہوا کہ نہیں؟ یہاں کے امام صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اعتکاف صحیح نہیں ہوا۔

جواب

بھتیجی کے انتقال پر وہاں جا کر غسل و کفن کرنا اور ان لوگوں کو صبر دلانا بہت اجر وثواب کی چیز ہے، لیکن اعتکاف سے نکلنا اس مقصد کے لئے بھی درست نہیں، تاہم اعلیٰ بات یہ ہے کہ آپ دس روز کا اعتکاف مستقل کر لیں، اس میں روزہ بھی رکھیں، حالات اس کی اجازت نہ دیں، تو جس قدر وہاں جانا ہوا، صرف ایک روز کا اعتکاف اور روزہ رکھ کر کر لیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو