الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عشرہ اخیرہ کا اعتکاف

سوال

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف مستحب ہے یا سنت مؤکدہ اگر سنت مؤکدہ ہے تو اس میں روزہ رکھنا شرط ہے، یا نہیں؟ اگر شرط ہے تو اب دریافت طلب یہ ہے کہ اگر معتکف نے رات سمجھ کر سحری کھالی پھر معلوم ہوا کہ صبح ہو چکی ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ اس روز کا روزہ نہ ہوگا، اب جب کہ روزہ نہ ہوا تو کیا اعتکاف بھی فاسد یاختم ہو جائے گا؟ اس پر اعتکاف کی قضالا زم ہوگی یا نہیں؟

جواب

یہ اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ اگر بغیر روزہ کے یہ اعتکاف کیا تو یہ اعتکاف مسنون نہیں ہوگا، بلکہ نفل بن جائے گا، البتہ اگر ایک دن روزہ نہ رکھا تو صرف ایک دن کے اعتکاف کی قضاء لازم ہوگی۔ شامی ج:۲، ص: ۱۳۱،۱۲۹۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو