ٹیلیفون کی خبر کا حکم
سوال
(۱) خبر ٹیلیفون جب کہ کسی معتبر شخص کی طرف سے ہو مفید ظن ہے، اور غلبہ ظن عمل کے لئے حجت ہے، پس خبر ٹیلیفون جب کسی معتمد علیہ عالم کی طرف سے ہو اس پر صوم وافطار درست ہے یا نہیں؟ (۲) فقہ کی کتابوں میں کتاب القاضی الی القاضی کو مشابه خطاب القاضی الی لقاضی بنا کر حجت مانتے ہیں تو ٹیلیفون قاضی شہر جو کہ بعینہ خطاب القاضی الی القاضی ہے کیونکر حجت نہ ہوگی۔ (۳)
جواب
(۱) محض ٹیلیفون کی خبر پر صوم و افطار درست نہیں ہے۔ (۲) کتاب القاضی الی القاضی کو شرعاً معاملات میں حجت مانا ہے نہ کہ جمیع امور میں اور یہ بھی خلاف قیاس حجت ہے اور اس کے لئے جس قدر شروط ہیں کیا تمام ٹیلیفون میں موجود ہیں: يجب ان يعلم ان كتاب القاضى الى القاضى صار حجة شرعاً في المعاملات بخلاف القياس لان الكتاب قد يفتعل ويزور والخط يشبه الخط والخاتم يشبه الخاتم ولكن جعلناه حجة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔