کیا مفتی کے ذمہ لازم ہے کہ رویت ہلال کے لئے شاہدوں کو تلاش کرتا پھرے
سوال
عید یا رمضان یا کسی دوسرے مہینہ کے چاند دیکھنے والوں پر یہ لازم ہے کہ مفتی کے پاس آکر گواہی دیں یا خود مفتی کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ وہ محلہ محلہ گھر گھر بلکہ دیہات جا کر گواہیاں حاصل کرے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود مفتی کے فرائض میں سے ہے، مفتی کا بیان یہ ہے کہ جب عام طور سے گواہی کا وجوب لوگوں کو بتلا دیا گیا ہے تو اب خود لوگوں کا فرض ہے کہ وہ آکر گواہی دیں بحوالہ کتاب تحریر کیا جائے کہ کس کی بات صحیح ہے۔ بینوا توجروا۔
جواب
مفتی کا بیان صحیح ہے، یہاں تک کہ اگر صرف کوئی پردہ دار چاند دیکھے تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ آکر گواہی دے: ويجب على الجارية المخدرة أن تخرج في ليلتها بلا اذن مولاها وتشهد اه (درمختار) قوله ويجب على الجارية المخدرة اى التي لا تخالط الرجال وكذا يجب على الحرة أن تخرج بلا اذن زوجها وكذا غير المخدرة والمزوجة بالاولى قال والظاهر ان محل ذلك عند توقف اثبات الرؤية عليها والا فلا اه رد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔