الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوران سفر اپنے وطن کے اندر سے گزرنا، آبادی بڑھنے کی وجہ سے مسافت سفر کا باقی نہ رہنا

سوال

(۱) موضع فیروز پور دہلی الور روڈ کے متصل واقع ہے۔ پہلے آبادی اور سڑک کے درمیانی زمین میں کاشت ہوتی تھی لیکن اب سڑک تک مکانات تعمیر ہو چکے ہیں اور کاشت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور سڑک کے دوسرے رخ پر قبرستان اور مویشی کے بٹھانے کی جگہ ہے۔ ایسی صورت میں اس بستی کا رہنے والا دہلی سے الور یا الور سے دہلی کو گذرے تو اس کی مسافرت ختم ہو جائے گی یا نہیں؟ (۲) نیز قصبہ نوح سے پرانی دہلی ۴۸ میل تھی اور اب نئی دہلی بڑھتے بڑھتے نوح کے رخ پر تقریباً ۱۵ ارمیل بڑھ چکی ہے۔

جواب

(۱) اب وہ سڑک آبادی سے خارج نہیں رہی جو شخص بارادہ سفر فیروز پور سے اس سڑک پر آئے وہ قصر نہیں کرے گا اور جب ایسا آدمی سفر شرعی سے چل کر اس سڑک پر پہونچ جائے جس کا وہ وطن ہے تو وہ قصر نہیں کرے گا بلکہ اتمام کرے گا اگر چہ اس کا ارادہ وہاں قیام کا نہ ہو۔ (۲) آبادی دیکھنے میں اگر متصل ہو تو محض کمیٹی الگ الگ ہونے کی وجہ سے ان کو دوبستیاں نہیں کہیں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو