ریلوے ملازم کے لئے قصر نماز کا حکم
سوال
مسمی زید ایک ریلوے ملازم ہے اور بعض دفعہ صبح ساٹھ میل کی مسافت طے کرتا ہے اور شام کو بھی اتنی ہی، یعنی صبح اپنی جائے اقامت سے بذریعہ ریل گاڑی بوجہ ملازمت جائے اقامت سے ساٹھ میل مسافت طے کرتا ہے اور اتنی ہی مسافت شام کو طے کر کے اپنی جائے اقامت پر آ جاتا ہے۔ زید راستے میں قصر نماز پڑھتا ہے مگر جائے اقامت پر یعنی وطن اقامت میں پوری نماز پڑھتا ہے۔
جواب
جب تک زید وطن اقامت میں کم از کم پندرہ یوم اقامت کی نیت نہ کرے صورت مسئولہ میں قصر نماز پڑھتا رہے۔ زید چونکہ ملازم ہے اس لئے اس کی نیت کا اعتبار اس وقت ہو گا جب کہ قانوناً اس کو پندرہ روز ٹھہرنے کا اختیار بھی ہو ورنہ اس کے افسر کی نیت معتبر ہو گی اب تک ایسی حالت میں جس قدر نمازیں اتمام کے ساتھ پڑھی ہیں اگر ان میں قعدہ اولیٰ کیا ہے تب تو وہ نمازیں کراہت کے ساتھ درست ہوگئیں اگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔