الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام مسافر کا اتمام کرنا

سوال

چه می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے بحالت سفر نماز خود را بجائے دو رکعت چار رکعت ادا نمود عمداً یا سہواً منفرد باشد یا امام و در هر دو صورت مسئلہ مذکور بحکم شرع چه حکم دارد آیا نمازش بحالت انفراد خود را ادا نمود دریں صورت مع احتمالات و هر چه حکم دارد مفصل و مشرح با دلائل واضحه تحریر فرموده ممنون فرمائید بینوا وتوجروا

جواب

مسافر شرعی کے لئے اتمام جائز نہیں بلکہ صلوٰۃ رباعی کو دو پڑھنا ضروری ہے صلی (المسافر) الفرض الرباعى ركعتين وجوباً در مختار ص ۱۰۷ جا، اگر مسافر نے اتمام کیا ہے اور قعدہ اولیٰ بھی کیا ہے تو اس کے فرض ادا ہو گئے لیکن یہ مکروہ ہے اور سجدہ سہو واجب ہے اگر عمداً ایسا کیا ہے تو گنہ گار ہوگا اور اعادہ واجب ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو