متبنی ہونے سے وطن اصلی نہیں بنا
سوال
ایک شخص نے دیو بند سے تقریباً تین سو میل کا سفر کیا اور جہاں یہ شخص گیا وہاں کا یہ متبنی ہے اور وہاں پر آٹھ نو روز قیام کرنے کا ارادہ ہے۔ آیا اس شخص کو دورانِ قیام نماز پوری ادا کرنی ہوگی یا قصر ادا کرے گا؟ اگر یہ مذکور شخص نماز پڑھا دے بھول کر تو کیا حکم ہے؟ اور اگر جان کر نماز پڑھائے تو کیا حکم ہے؟ دونوں صورتوں میں ایک ہی حکم ہے یا الگ الگ؟
جواب
اگر وہ مقام اس کا وطن اصلی نہیں ہے تو صورت مذکورہ میں وہ قصر کرے گا اتمام نہیں کرے گا اس کی امامت جائز ہے مگر قصر کرے، اتمام کرنے سے مقیم مقتدیوں کی نماز نہیں ہوگی۔ جان کر اتمام کرنے سے گنہگار بھی ہوگا۔ بھول کر اتمام کرنے سے گنہگار نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔