مسافر کو اتمام
سوال
زید دیو بند سے سفر شرعی پر گیا وہاں اس نے قصر کیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی نماز پڑھائی مگر اسے سفر کا کوئی خیال نہ تھا، کیا اس کا نماز پڑھانا اور خود چار رکعت پڑھنا کیسا ہے؟ کیا ان لوگوں کی نماز ہوئی یا نہیں، یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہاں تک سفر کا اطلاق بھی ہو سکتا ہے یا نہیں، یا سفر بھی قصر یا غیر قصر کی نیت سے کرنا ہوگی یا نہیں، نیت کے بارے میں ضرور روشنی ڈالیں؟
جواب
جب مسافت سفر شرعی کا قصد کر کے آدمی چلے تو اس کے لئے قصر کرنا واجب ہوتا ہے تنہا نماز پڑھے یا امام ہو کر پڑھائے، اتمام کی اجازت نہیں اگر خیال سفر نہ رہے یا مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اتمام کر لیا اور دو رکعت پر قعدہ بھی کیا ہے، تو دورکعت فرض اور دو رکعت نفل ہو کر نماز ہوگئی ہے لیکن جب مقیم نے اس کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے اس کو اپنی نماز لوٹانی چاہئے امام کو چاہئے کہ مقتدی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔