قصر واتمام
سوال
(۱) بندہ ایک عرصہ سے اللہ آباد میں دینی کام کرتا ہے۔ وطن اصلی بارہ بنکی ہے عموماً پندرہ بیس دن اللہ آباد میں رہتا ہے اور تین چاردن کے لئے بارہ بنکی چلا جاتا ہے۔ غرضیکہ قیام کی کوئی خاص نیت نہیں ہوتی ہے بلکہ ایک اندازہ ہوتا ہے کہ پندرہ بیس دن رہوں گا، کبھی آٹھ ہی دن میں چلا جاتا ہوں۔ اس وقت مجھے نماز قصر پڑھنی پڑے گی یا پوری؟ (۲) کبھی پندرہ دن کی نیت ہوتی ہے لیکن آس پاس کے دیہاتوں میں گذرتا ہے دن اور رات۔ الہ آباد میں قصر ہوگی یا نہیں؟ نیز جو نماز دیہاتوں میں پڑھی اس میں قصر ہو گی یا نہیں؟
جواب
(۱) بارہ بنکی میں آپ جب داخل ہوں گے پوری نماز پڑھیں گے خواہ وہاں ایک ہی نماز کے بقدر قیام ہو، الہ آباد میں اگر پندرہ روز مسلسل قیام کی نیت ہو تو وہاں بھی پوری نماز پڑھیں گے۔ اگرچہ پندرہ روز کی نیت کی صورت میں پہلے سفر کی نوبت آجائے۔ اگر پندرہ روز سے کم قیام کی نیت ہو تو وہاں نماز قصر کریں گے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔