مسافر قصر کب سے کرے؟
سوال
ایک شخص کسی شہر کا جو تین دن اور تین رات کے فاصلے پر ہے ارادہ کر کے گھر سے نکلا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی نیت ہے کہ وہاں پندرہ روز یا زیادہ قیام کرے گا۔ اب یہ آدمی راستے میں قصر کرے گا یا نہیں اگر قصر کا حکم ہے تو قاضی خاں کی عبارت بخلاف ما اذا نوى الاقامة حيث يصير مقيماً بمجرد النية کا کیا مطلب ہے؟
جواب
اس سے معلوم ہوا کہ شخص مذکور صورت مذکورہ میں قصر کرے گا اور عبارت مسئولہ کا مطلب یہ ہے کہ لزوم قصر کے لئے صرف نیت سفر کو شریعت نے کافی نہیں سمجھا بلکہ اس کیلئے مجاوزة عمران کو شرط قرار دیا ہے۔ اس لئے کہ سفر ایک فعل ہے جو مسافر سے صادر ہوتا ہے جس پر لزوم قصر مرتب ہوتا ہے پس تا وقتیکہ اس فعل کا ادنیٰ حصہ (جو مجاوزۃ عمران ہے)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔