نفل کو فرض کے ساتھ ملانے سے سجدہ سہو
سوال
اس پر قیاس کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر صلوۃ فجر میں قعدہ بھول گیا اور ثالثہ کا سجدہ کر لیا تو رابعہ ملانے سے ۴ نفل نہ ہوں بلکہ دو ہوں، اسی طرح ظہر میں خامسہ کے ساتھ سادسہ ملانے سے بجائے چھ کے چار نفل نہ ہوں حالانکہ جہاں تک بندہ کا خیال ہے فجر میں ۴ اور ظہر میں ۴ کا نفل ہونا مذکور ہے جو تحقیق ہو مطلع فرمادیں نیز جس طرح فرض میں قعدہ ثانیہ چھوٹ گیا اور دو نفل ملائے تو سجدہ سہو نہیں اسی طرح نوافل میں بھی نہ ہونا چاہئے حالانکہ سجدہ سہو کا وجوب اس صورت میں ظاہر ہے اگر چہ عالمگیریہ میں اس کو ذکر نہیں کیا۔
جواب
اس سوال میں متعدد جزئیات کو دریافت کیا گیا ہے اسلئے ان جزئیات پر احقر نے نمبر لگا دیئے، تاکہ جواب کے انطباق میں سہولت ہو۔ (۱) فتاوی عالمگیری کا یہ جزئیہ دیگر کتب میں بھی مذکور ہے جس کا یہ مطلب نہیں کہ دو رکعت صحیح ہوئی اور دو فاسد اگر یہ مطلب ہوتا تو قیاس کی گنجائش نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ دو رکعت تراویح (سنت موکدہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔