تکبیر تحریمہ آہستہ کہنے سے سجدہ سہو لازم نہیں
سوال
امام صاحب نے تکبیر تحریمہ بآواز بلند نہ کہا اسماع غیر نہیں ہوا اور دوسری تکبیرات بآواز کہا تب سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟ نیز اگر امام صاحب پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوا پھر بھی سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہوگئی یا نہیں ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ امام صاحب نماز میں ترک مستحبات پر بھی سجدہ سہو کر سکتا ہے نماز میں کوئی نقصان نہ ہوگا کیا یہ بات درست ہے؟
جواب
تکبیرات آہستہ کہنے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا مستحب کے چھوڑنے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔ اگر اس گمان سے سجدہ سہو کر لیا کہ واجب ہو گیا تھا تب بھی نماز فاسد نہیں ہوئی، لوظن الامام السهو فسجد له فتابعه فبان ان لاسهو فالاشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد (درمختار)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔