قعدہ اولی یا اخری بھول کر کھڑے ہونے سے سجدہ سہو
سوال
اگر قعدہ اخیرہ میں بھول کر کھڑا ہونے لگے اور قبل پورا کھڑے ہونے کے بیٹھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا کہ نہیں؟ طحطاوی میں ہے ص ۲۷۱ پر لکھتے ہیں سجد للسهو سواء كان الى القيام اقرب او الى القعود اقرب بخلاف السهو عن القعود الأولى ففيه التفصيل على احد القولین یہ قول مفتی بہ ہے یا نہیں؟
جواب
شامی نے ہر دو قعود میں ایک ہی حکم لگایا ہے جیسا کہ قعود اول میں تفصیل ہے کہ اقرب الی القعود ہونے کی صورت میں سجدہ سہو نہیں اور اقرب الی القیام ہونے کی صورت میں سجدہ سہو واجب ہے، اسی طرح قعدہ اخیر کا حکم ہے صاحب نہر نے فرض اور واجب ہونے کا فرق ظاہر کیا ہے اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں اس فرق کا انکار کر کے قعود اول و ثانی کا ایک ہی حکم تحریر فرمايا ہے لم يفصل هنا بين…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔