الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ختم قرآن میں چراغاں

سوال

بعض لوگ ختم قرآن کے سلسلہ میں تراویح میں مثال دیتے ہیں کہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں تو جھاڑ فانوس شمع کا فوری اور کثرت سے چراغاں ہوتا ہے اگر نا جائز ہے تو کیوں نہیں منع کیا جاتا ہے، حالانکہ مکہ شریفہ و مدینہ منورہ میں بڑے بڑے جید عالم موجود ہیں، یہ بجلی کی روشنی مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں ختم قرآن کے دن ہوتی ہے یا ہمیشہ اور کثرت سے چراغاں ہونے کی کیا وجہ ہے؟

جواب

یہ کہنا کہ منع نہیں کیا گیا غلط ہے، کتاب المدخل الج۲، ص ۳۰۲ میں دیکھئے کس شدت سے منع کیا گیا مگر اہل ثروت و بدعت اہل علم واہل حق کی کم مانتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو