ختم قرآن کے موقعہ پر آیات متفرقہ بلاتر تیب پڑھنا
سوال
ایک حافظ صاحب تراویح میں ختم قرآن پر مُفْلِحُون تک پڑھتے ہیں پھر اسی رکعت میں آیات متفرقات (بلا ترتیب) ادعیہ وغیرہ پڑھتے ہیں، اور بھی بعض حفاظ کا معمول ہے کہ ختم کلام پاک پر آخری رکعت میں مختلف آیات بلا ترتیب تلاوت کرتے ہیں، اسپر بعض حضرات کو اعتراض ہے کہ طحطاوی و عالمگیری میں اس کو مکروہ لکھا ہے، بلکہ خارج نماز مکروہ، چہ جائیکہ داخل نماز اس میں بدرجہ اولی مکروہ ہوگا، قاضی ابوبکر نے بھی اجماعاً نا جائز ہونا نقل کیا ہے، ان تمام روایتوں کو جو اس کے خلاف وارد ہیں مد نظر رکھتے ہوئے تحریر فرمائیں کہ کون سا عمل صحیح ہے؟
جواب
قرآن پاک کو ترتیب سے ہی پڑھا جائے خلاف ترتیب پڑھنا مکروہ ہے، بعض علماء نے نوافل کو مستثنیٰ کیا ہے، حجۃ الاسلام حضرت مولانا نانوتوی قدس سرہ کے متعلق بھی یہی سنا کہ وہ ختم قرآن پر متفرق آیات و دعا پڑھتے تھے، ان میں ترتیب کی رعایت بھی غالباً نہیں ہوتی تھی، شاید وہ اسی قول کو اختیار فرماتے ہوں گے، البتہ قرآن پاک جس رکعت میں ختم کیا جائے، اس کے بعد والی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔