تراویح میں چھوٹا ہوا قرآن پورا کرنے کی ترکیب
سوال
کسی شخص کی تراویح دو چار یوم چھوٹ جائے جس میں قرآن پڑھا جاتا ہو تو کس طرح ترکیب سے پڑھے کہ ترتیب قائم رہے کیونکہ جس حافظ کے پیچھے وہ پڑھ رہا ہے اس کے دوبارہ تراویح پڑھانے میں اس کا قرآن پڑھنا نفل ہوگا، اور مقتدی کا سنت اور کسی ایسے حافظ کے پیچھے پڑھے جس حافظ نے محراب میں کہیں نہیں سنایا یا سنا ہو، یا کسی حافظ کے پیچھے خواہ امام تراویح جس کے پیچھے سن رہا ہو وہ حافظ تراویح اپنے ذمہ اتنے پارے قرآن سنانے کی نذر مانے کہ مجھ کو اتنے پارے سنانا ہے نذر اپنے ذمہ کی اور بعد نذر ماننے کے اتنے پارہ سنانا اس مقتدی پر واجب ہو…
جواب
اپنے امام سے کہے کہ وہ کسی شب سولہ تراویح پڑھائے ان میں جس قدر ہمیشہ بیس میں پڑھتا تھا اتنا پڑھے اور بقیہ چار رکعت میں کوئی اور شخص چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھا دے وہ شخص اور امام جس نے سولہ پڑھائی ہیں ان چار میں نفل کی نیت کرے پھر یہ امام چار رکعت تراویح اس شخص کو پڑھائے جس کا کچھ قرآن کریم چھوٹ گیا ہے اور ان میں وہ چھوٹا ہوا قرآن شریف پڑھ دے، اس طرح ہر روز کی تراویح میں بھی نقصان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔