نماز مغرب میں قنوت نازلہ
سوال
مشکوة شریف میں قنوت نازلہ کی ترکیب حنفی مذہب میں صرف فجر کے وقت ہے (یعنی فرض نماز کی فجر میں) ہمارے امام حنفی ہوتے ہوئے مغرب کی نماز میں فجر کی نیت سے پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مغرب میں زیادہ آدمی رہتے ہیں کیا اس طرح درست ہے کہ ایک امام کے پیرو دوسرے امام کی پیروی کریں (حوالہ حدیث) (۲) کیا قنوت نازلہ حوادثات کے وقت واجب اور لازم ہے یہاں مہینوں سے پڑھی جاتی ہے اور اس وقت معاملات سرد بھی ہیں لیکن رک نہیں رہے ہیں۔
جواب
امام صاحب کو اس چیز سے پرہیز کرنا چاہئے ابتلائے عام کے وقت بھی جب کہ عام مسلمان مصیبت میں گرفتار ہوں، تو قنوت نازلہ صرف نماز فجر میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پڑھی جاتی ہے کسی اور نماز میں نہیں جیسا کہ اعلاء السنن میں پوری تفصیل مذکور ہے۔ فقہ حنفی کی کتاب در مختار، شامی میں بھی اسی طرح ہے۔ (۲) جواب نمبر ایک سے اس کا جواب ظاہر ہے اس کا پڑھنا واجب نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔