قنوت نازلہ میں ہاتھوں کے اٹھانے اور آمین پڑھنے کا حکم
سوال
قنوت نازلہ فجر میں امام دوسری رکعت کے قومہ میں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ امام کے قنوت نازلہ پڑھتے وقت ہاتھ اٹھانا درست ہے یا نہیں؟ کیا شوافع حضرات قنوت نازلہ پڑھتے وقت امام کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے ہیں؟ قنوت نازلہ پڑھتے وقت آمین جہر سے کہے یا آہستہ کہے؟ مقتدی زور سے آمین کہے یا آہستہ کہے؟ مقتدی حضرات حنفی ہوں اور امام شافعی مسلک کا ہو تو حنفی حضرات قنوت نازلہ سننے پر آمین جہر سے کہے یا آہستہ سے؟ امام صاحب ہمارے یہاں شافعی مسلک کے ہیں۔
جواب
مصائب عامہ شدیدہ کے وقت فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد امام قنوت نازلہ پڑھ سکتا ہے۔ قال الحافظ ابو جعفر الطحاوى انما لا يقنت عندنا في صلوة الفجر من غير بلية فان وقعت فتنة او بلية فلابأس به فعله رسول الله صلى الله عليه وسلم. (شامی ص ۷۰۲ ج ۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔