الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عام بدامنی کے موقع پر بعد نمازِ فجر آیت کریمہ کا ختم

سوال

جب بدامنی عام ہو جائے اور اہلِ اسلام کی جان واموال کو غیروں کی طرف سے خطرات لاحق ہو جائیں تو ایسی صورت میں اہلِ اسلام کو کیا کرنا چاہئے؟ ہمارے یہاں بعض مساجد میں یہ سلسلہ جاری ہے کہ بعد صلوۃ فجر لوگوں کو روک دیا جاتا ہے اور بہیئت اجتماعیہ سب لوگ گٹھلیوں پر آیت کریمہ لا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِي كُنْتُ مِنَ الظالمین پڑھ کر دعا کرتے ہیں۔ ایسے حوادث تو نبی کریم ﷺ اور خلفاء راشدین کے عہد مبارک میں بھی پیش آئے تو کیا آپ یا صحابہ کرام سے ایسا عمل ثابت ہے؟ شرعاً اس کی کیا حیثیت ہے؟ دلیل تحریر فرمائیں۔

جواب

مصیبت عامہ کے وقت جب بدامنی پھیل جائے قتل وغارت کی وجہ سے جان، مال، أولاد محفوظ نہ رہے تو قنوت نازلہ پڑھنا حدیث وفقہ سے ثابت ہے۔ آیت کریمہ کا عمل بھی مفید و مجرب ہے توبہ واستغفار کی کثرت کی جائے، یہ بھی حدیث میں ہے کہ جب کوئی اہم امر پیش آتا بَادَرَ اِلَی الصَّلٰوۃ اس لئے آیت کریمہ کی توفیق ہو جائے تو اعتراض کی ضرورت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو