قنوت نازله
سوال
قنوت نازلہ روزانہ نماز فجر میں پابندی سے پڑھی جاوے جب کہ اس کا موجب علی التواتر پایا جاتا ہے۔ یعنی جنگ و قتال۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک ماہ تک پڑھ کر چھوڑ دیا تھا لہذا ہر ماہ کے بعد چند روز چھوڑ دیا جائے۔ کیا ہونا چاہئے علی الاتصال یا ہر ماہ کے بعد کچھ انفصال کیا جاوے؟ جواب مدلل سے مشرف فرماویں۔
جواب
کوئی مستقل اور اصلی چیز نہیں بلکہ وقوع نازلہ اس کا سبب ہے۔ بس جب پایا جائے تو قنوت نازلہ پڑھی جائے۔ جب سبب منقطع ہو جائے تو قنوت نازلہ کی ضرورت نہیں اس کو ترک کر دیا جائے جو فقہاء اور محدثین اس کے جواز کے قائل ہیں انھوں نے ایک ماہ یا کچھ کم و بیش کی تحدید نہیں فرمائی۔ نبی اکرم علی ایم نے صرف ایک واقعہ کے ذیل میں قنوت نازلہ پڑھی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔