تهجد وتر صلوٰۃ اللیل کا مصداق
سوال
تہجد اور وتر ایک نماز ہے یا الگ الگ دو نمازیں ہیں؟ احادیث مختلفہ دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وتر کا اطلاق بھی تہجد اور ہر قیام لیل پر ہوتا ہے اور دیگر بہت سی روایتیں اس پر دال ہیں کہ وتر اور تہجد میں مغائرت ہے نیز حضور سے رمضان کے بعد راتوں میں تروایح اور صلوٰۃ لیل کو جماعت کے ساتھ پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ مجموعہ الفتاوی وغیرہ میں مذکور ہے اب تہجد کو صلوٰۃ لیل کہہ کر رمضان شریف میں جم غفیر کے ساتھ باجماعت ادا کرنا مکروہ ہوگایانہیں؟
جواب
وتر اور تہجد دونوں الگ الگ دو نمازیں ہیں وتر کے لئے حدیث شریف میں مخصوص تاکید آئی ہے۔ صلوٰۃ اللیل کا اطلاق ایک معنی کے اعتبار سے ہر اس نماز پر بھی درست ہے جو رات میں پڑھی جائے مغرب کی فرض، سنت، نفل اور عشاء کی فرض، سنت، وتر، نفل، تہجد سب کو صلوٰۃ اللیل کہنا، درست ہے کیا ان سب کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی اجازت ہوگی؟ یا مخصوص طور پر رمضان میں ان سب کو جماعت کے ساتھ اجازت ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔