جس نے نماز عشاء جماعت سے نہیں پڑھی وہ وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
سوال
(۱) اگر کسی نے فرض جماعت سے نہیں پڑھی وہ وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے کہ نہیں؟ (۲) اور اگر فرض جماعت سے پڑھی مگر تروایح کی چند رکعت چھوٹ گئی تو وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے کہ نہیں؟
جواب
جب مسجد میں جماعت عشاء ختم ہو چکی اور کوئی شخص بعد میں پہونچا تو اس کو چاہئے کہ اول عشاء کے فرض ادا کرے پھر سنت پھر تروایح میں شریک ہو پھر وتر کی جماعت میں شرکت کرے اس کے بعد بقیہ تراویح پڑھے۔ الذي يظهر ان جماعة الوتر تبع لجماعة التراويح اه شامي نعمانيه ص ۴۷۶ ج ۱ صلى العشاء وحده فله ان يصلى التراويح مع الامام ولو تركوا الجماعة في الفرض ليس لهم ان يصلوا التراويح بجماعة واذا صلى…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔