زیر زبر پیش کی غلطیاں
سوال
یہاں جامع مسجد کے امام صاحب اکثر زبر کی جگہ پیش اور پیش کی جگہ زبر اور زبر کی جگہ زیر پڑھتے رہتے ہیں مثلاً سورہ حشر میں لَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ میں ت کے زبر کی جگہ پیش پڑھتے ہیں جیسا کہ سورہ زلزال میں اَشْتَاتاً لِيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ میں اعمالهم كے اندر لام کے زبر کی جگہ پیش پڑھتے ہیں سورہ مزمل میں یوم ترجف الأَرْضُ کے اندر جیم کے پیش کی جگہ زبر پڑھتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ جو نماز میں اس صریح غلطی کے ساتھ پڑھی گئیں ہیں ان کا کیا حکم ہوگا اگر نمازیں فاسد یا باطل ہو گئیں تو ان کو…
جواب
ان چاروں غلطیوں کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ نہیں ان کی توجیہ ہوسکتی ہے نماز کو فساد سے بچانے کے لئے دور کی تاویل وتوجیہ ہی کی جاتی ہے لیکن ان غلطیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام صاحب ایسی ہی غلطیاں کرتے ہوں گے جن کی توجیہ نہ ہو سکے اس لئے ان کو چاہئے کہ کم از کم دو چار سورتیں صحیح کر کے کسی واقف کو سنا دیں پھر نماز میں وہی سورتیں پڑھا کریں اور خطبہ بھی بہت مختصر صحیح یاد کر لیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔