قراءت میں صیغہ واحد مونث کی جگہ صیغہ واحد متکلم کا پڑھنا
سوال
امام نے فجر میں یوم نقول لجهنم هل امتلات کی جگہ هَل امتلات پڑھ دیا تو نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟
جواب
قرات نماز میں اگر کوئی لفظ غلط زبان سے نکل گیا تو نماز کو فساد سے بچانے کے لئے فقہاء دور دراز کی تاویل سے بھی کام لے کر جواز نماز کا حکم فرما دیتے ہیں۔ جیسا کہ زلتہ القاری کے مسائل عالمگیری، بزازیہ، خانیہ، کبیری وغیرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ صورتِ مسئولہ میں خطاب جہنم کو ہے اورصیغہ واحد مونث کا ہے۔ پڑھنے میں غلطی یہ ہوئی کہ یہ واحد متکلم کا صیغہ ہو گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔