اپنی نماز پڑھ کر امام کی نماز میں شریک ہوا تو اس پر قراءت لازم نہیں
سوال
ایک شخص فرض نماز ادا کر چکا تھا مثلاً ظہر عشاء کی، بعد میں یہ شخص کسی دوسری مسجد میں پہونچا اور وہاں نماز نہ ہوئی تھی۔ اس کے پہونچنے پر نماز شروع ہوئی۔ یہ بھی اس نماز میں نفل کی نیت سے شریک ہو گیا اور امام فرض پڑھا رہا ہے۔ ادا فرض کی آخیر کی دورکعتوں میں قراءت ضروری نہیں اور نفل میں چاروں رکعتوں میں الحمد اور ضم سورہ ضروری ہے۔ تو کیا یہ شخص جو نفل کی نیت سے شریک ہے آخیر کی دورکعتوں میں امام کے پیچھے بھی سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کرے گا یا نہیں؟
جواب
مقتدی فرض پڑھے یا نفل، سری نماز ہو یا جہری اس کو قراءت کی اجازت نہیں، خواہ امام کی نماز فرض ہو یا نفل - اذا قرأ فانصتوا (الحديث) مسلم شریف۔ اگر مقتدی نے قصداً قراءۃ کی تو مکروہ تحریمی کا ارتکاب کیا۔ نماز فاسد نہیں ہوئی۔ سہواً قراءت سے اس کے ذمہ سجدہ سہو واجب نہیں۔ کذافی رد المحتار
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔