امام کا فرض نماز میں ختم قرآن
سوال
ایک امام صاحب فجر کی نماز میں قرآن مجید کو آلم سے پڑھتے ہیں جس طرح تروایح میں قرآن پڑھا جاتا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے اور ختم ہو جاتا ہے۔ تو پھر شروع سے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، ان کا کئی سال سے یہی دستور ہے۔ علاوہ ازیں بہت جلدی جلدی آہستہ آواز سے، بسا اوقات مقتدی سننے سے محروم رہتے ہیں اور مقتدی ان کے اس پڑھنے سے راضی بھی نہیں ہیں۔ لہذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ از روئے شرع امام کے اس فعل میں کوئی حرج تو نہیں ہے اور اگر ہے تو کیا؟ بینوا توجروا۔
جواب
امام صاحب کا اس طرح پڑھنا خلاف سنت ہے ان کو اس سے احتراز کرنا چاہئے۔ خصوصاً جب کہ مقتدی اس سے راضی نہیں ہیں، گو نماز اس سے صحیح ہو جاتی ہے فاسد نہیں ہوتی۔ مسنون طریقہ یہ ہے کہ فجر میں طوال مفصل یعنی سورہ حجرات سے سورہ بروج تک کی سورتیں وقت کی گنجائش اور مقتدیوں کے تحمل کی رعایت سے پڑھا کریں گے۔ اگر وقت میں کمی ہو یا مقتدیوں میں تحمل نہ ہو تو اس سے چھوٹی سورتیں پڑھیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔