الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسبوق ولاحق سے متعلق

سوال

مقیم مقتدی جب کہ مسبوق ہو، اس کے بقیہ نماز کے پوری کرنے کا جو طریقہ کتب فقہ میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ پہلی دو رکعت بلا قراءت ادا کرے اور پھر ایک رکعت مع قراءت کے ادا کرے اور یہ ترتیب بنا بر واجبیت کے ہے كما في شرح المنية. وهذا على سبيل الوجوب ولو عكس صح واثم على الترتيب اس میں تین باتیں دریافت طلب ہیں۔ اول اگر عمداً برعکس کرے گا تو نماز فاسد ہوگی یا نہیں۔ کیونکہ کسی واجب کو عمداً ترک کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ وہ قاعدہ یہاں پر چلے گا یا نہیں؟ (۱) بھول کر اگر عکس کردے گا تو سجدہ سہو واجب ہو گا یا نہیں؟ (۲)

جواب

(۱) کتب فقہیہ کی اصل عبارت سے مسبوق لاحق کی ما بقیہ نماز میں ترتیب کا وجوب سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن ابتلائے عام اور نشر جہل کی بناء پر حضرت تھانوی علیہ الرحمۃ نے امداد الفتاوی میں استنباط فرماتے ہوئے جو استحباب کا حکم فرمایا ہے وہی اوسع اور ارفق للزمان ہے۔ اور جب بر بنائے قول ثانی وجوب باقی نہ رہا تو عمداً ترک سے بھی اعادہ واجب نہ ہوگا۔ هو التوسع۔ اور اعادہ میں احتیاط ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو