الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وتر کی نماز میں مسبوق قنوت پڑھے گا یا نہیں؟

سوال

وتر کی نماز با جماعت ہو رہی تھی ایک آدمی آیا اور آخری رکعت میں جب کہ امام نے رکوع کر دیا تھا شامل ہو گیا۔ اب وہ آدمی اپنی نماز کیسے پوری کرے؟ یعنی اس کو آخری رکعت میں قنوت پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ ہم سے کہا گیا ہے کہ اس کو پڑھنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس نے آخری رکعت پالی قنوت پڑھنے کے متعلق بھی اختلاف ہے بعض ائمہ فرماتے ہیں کہ سنت ہے اور بعض کے نزدیک واجب ہے جو لوگ قنوت کو واجب مانتے ہیں ان کے نزدیک بھی اس صورت میں پڑھنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیوں کہ وہ مسبوق ہے۔

جواب

قنوت وتر کی تیسری رکعت میں پڑھنا واجب ہے رمضان المبارک میں جب کہ امام تیسری رکعت میں قنوت پڑھ کر رکوع میں گیا اس وقت کوئی مسبوق آکر رکوع میں شامل ہو گیا۔ تو اس کو تیسری رکعت مل گئی اب سلام امام کے بعد یہ شخص دورکعت پڑھے گا قنوت نہیں پڑھے گا کیوں کہ قنوت نہ پہلی رکعت میں پڑھی جاتی ہے نہ دوسری میں بلکہ وہ تیسری میں پڑھی جاتی ہے جو اس کو امام کے ساتھ مل گئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو