سلام مسبوق کے سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ اور تعلیم الاسلام کی عبارت میں تطبیق
سوال
اس سے پہلے بندہ نے ایک استفتاء روانہ کیا تھا کہ مسبوق اگر امام کے ساتھ غلطی سے سلام پھیر دے تو سجدہ سہو یہ مسبوق مقتدی کب کرے، اگر ایک طرف سلام پھیر دے تب یا دونوں طرف پھیر دے تب؟ حضرت مفتی صاحب نے تحریر فرمایا کہ مسبوق نے اگر ایک طرف بھی امام کے ساتھ سلام پھیر دیا تو یہ مسبوق جب اپنی نماز کا سلام پھیرے تو سجدہ سہو کرے وجہ یہ تحریر فرمائی تھی کہ چونکہ واجب صرف لفظ سلام تھا آگے علیکم ورحمۃ اللہ کلمات زائد ہیں، تو یہ مسبوق امام کی اقتداء میں لفظ سلام تک تھا پورا سلام امام کے ہمراہ پھیرنے سے تاخیر کی وجہ سے اس کو…
جواب
تعلیم الاسلام حصہ ۴ میں یہ عبارت ہے۔ اگر امام کے سلام کے بعد اس نے سلام پھیرا تو اپنی نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرنا واجب ہے، اس میں ایک دو طرف سلام کی بحث نہیں، نہ یہ کہ پورا السلام یعنی علیکم ورحمۃ اللہ کہے یا فقط السلام کہے، تعلیم الاسلام حصہ ۱۳ میں واجبات نماز کے بیان میں ہے ۱۲ لفظ سلام کے ساتھ نماز سے علیحدہ ہونا، اس میں علیکم ورحمۃ اللہ نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔