مسبوق کی نماز میں قراءت
سوال
زید عشاء کی نماز فرض میں اول رکعت کا مسبوق ہوا۔ بعد سلام امام یہ رکعت قراءت کے لحاظ سے کونسی رکعت سمجھی جائے گی یعنی قدر قراءت اور سورہ کے تقدیم وتاخیر میں کیا حکم رکھے گی اور اگر اول کا حکم رکھے گی تو کیا امام کی قراءت کردہ سورہ کو اس میں تلاوت کرنا افضل ہے یا نہیں؟ حوالہ کتب بیان فرماویں۔
جواب
یہ رکعت اپنے قراءت کے لحاظ سے اول رکعت سمجھی جائے گی۔ لہذا اس پر جمیع احکام قراءت اول رکعت کے جاری ہونگے مثلاً اس رکعت میں ثنا بھی پڑھے گا تعوذ بھی پڑھیگا سورہ فاتحہ بھی پڑھیگا، سورہ بھی پڑھے گا۔ وههنا من احكام المسبوق انه يقضى اول صلوته في حق القراءة واخرها في حق التشهد حتى لوادرك ركعةً من المغرب قضى ركعتين وفصل بقعدة فيكون بثلاث قعدات وقرأ في كل فاتحة وسورة ولوترك القراءة في…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔