مسبوق نے بھول کر دونوں طرف سلام پھیر دیا
سوال
مسبوق یا منفرد بھولے سے دونوں جانب سلام پھیر دے، پھر خود بخود یاد آ جانے پر یا کسی کے یاد دلانے پر فوراً اُٹھ کر اس صورت میں کہ سینہ ہنوز قبلہ ہی کی طرف تھا اپنی بقیہ رکعت سجدہ سہو کے ساتھ تمام کرے تو حسب ارشاد حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ فتاوی دارالعلوم دیو بند اس کی نماز صحیح ہو جائے گی۔ لیکن یہاں بعض اہل علم کا قول ہے کہ اگر دونوں جانب سلام پھیر دے تو نماز از سر نو ہی پڑھنا چاہئے۔ اس صورت میں اصح قول کیا ہے؟
جواب
اگر بھول کر دونوں طرف سلام پھیر دیا حالانکہ ابھی نماز پوری نہیں ہوئی تھی، کوئی رکعت باقی تھی، پھر جب ہی قبلہ کی طرف سے سینہ پھرانے اور کسی مفسد نماز کے ارتکاب سے پہلے فوراً یاد آ گیا یا کسی کے یاد دلانے سے یاد آ گیا اور بقیہ نماز سجدۂ سہو کے ساتھ پوری کر لی تو نماز درست ہوگئی۔ یہی حکم ایک طرف سلام پھرانے کی صورت میں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔