مسبوق کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا
سوال
مسبوق نے بھولے سے امام کے ساتھ سلام پھیر دیا۔ بعد میں یاد آیا تو کھڑے ہوکر نماز پوری کر لی ایسے شخص پر سجدہ سہو لازم ہے یا نہیں اور اس کا کھڑا ہونا صحیح ہوا یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ اگر سلام کے بعد بغیر کلام کئے ہوئے کچھ درود وغیرہ بھی پڑھ لیا تو بھی کئی حرج نہیں پھر یاد آنے پر کھڑے ہو کر پورا کر لینے سے صحیح ہو جائے گی۔ آیا زید کا قول صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
جب تک کوئی قول یا فعل منافی صلوٰۃ نہیں کیا تو کھڑا ہو کر اپنی نماز پوری کرلے اور سجدہ سہو کر لے نماز صحیح ہو جائے گی۔ الجواب صحیح: سعید احمد غفر له صحیح: عبداللطیف ۲۶ رجب ۵۵۶
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔