اگر مسبوق بھول کر ایک طرف سلام پھیر دے
سوال
مسبوق نے بھولے سے امام کے ساتھ ایک طرف سلام پھیر لیا دوسری طرف سلام پھیرنے سے پہلے اس کو یاد آ گیا کہ میری رکعت چھوٹی ہوئی ہے۔ اب اس کے ذمہ سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
امام نے جب داہنی طرف سلام پھیرا اور اس میں لفظ السلام کے میم پر پہونچا اگر اسی وقت مسبوق کو یاد آیا اور وہ رک گیا تب تو اس کے ذمہ سجدہ سہو نہیں اگر اس کے بعد سلام پھیرا اور یاد آیا تو اس کے ذمہ سجدہ سہو ہوگا۔ شامی ص ۴۹۹ ج ۱۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔