الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

احتیاط الظہر پڑھنے والے کی امامت

سوال

جو امام احتیاط الظہر کا قائل ہے اور علانیہ طور پر کہتا ہے کہ ہمارا جمعہ نہیں ہوتا۔ لہذا احتیاط الظہر کا بعد جمعہ پڑھنا واجب ہے اور مسجد بھی شہر یا قصبہ میں واقع ہو تو ایسے امام کے پیچھے ایسے شخص کو جو احتیاط الظہر کا قائل نہ ہو کیا کرنا چاہئے کیوں کہ اس کے پیچھے نماز ادا کرنے میں جمعہ تو ادا نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ امام خود قائل نہیں ہے۔ ہمیشہ کے لئے جمعہ کا ترک کرنا شرعاً نامناسب ہے جیسا کہ اکثر روایات سے ظاہر اور بین طور پر ثابت ہوتا ہے اگر نماز کا اعادہ کر لے گا تو پھر بھی جمعہ کا ترک لازم آئے گا۔

جواب

امام کا کہنا قول مفتی بہ کے خلاف ہے تاہم اس کے پیچھے ایسے شخص کا جمعہ پڑھنا درست ہے جو وہ اعتقاد رکھتا ہے کہ شروط تحقق ہونے پر جمعہ درست ہو جاتا ہے اور احتیاط الظہر واجب نہیں اس میں اعتقاد مقتدی کا اعتبار ہے جیسے کہ جو شخص وتر کو واجب اعتقاد کرتا ہے اور جیسے کہ ایک شخص کے اعتقاد میں ایک چیز ناقض وضوء یا مبطل صلوۃ ہے وہ امام ہے اور مقتدی کے حق میں وہ چیز ناقض اور مبطل صلوٰۃ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو