الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا جس سے مقتدی نا خوش ہوں

سوال

ایک امام صاحب سات سال سے امامت کر رہے ہیں۔ موضع قاسم پور میں اور لوگ ان کی امامت سے سخت ناراض ہیں اور بڑے پریشان ہیں اور امام سے جھگڑا بھی ہو گیا ہے۔ کئی مرتبہ مگر یہ امامت کئے جا رہے ہیں وجہ امامت کی یہ ہے کہ انھوں نے دو چار آدمیوں کو اپنے ساتھ لگا رکھا ہے۔ سب نمازی ناراض ہیں ایسے شخص کی امامت کیسی ہے مکروہ ہے یا کہ حرام؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اس کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر امام میں کوئی ایسی وجہ موجود ہے جس سے اس کی امامت نا جائز ہوتی ہو تو امام کو خود اپنی اصلاح لازم ہے اور جب تک وہ وجہ موجود ہے وہ امامت نہ کرے۔ خود ہی علیحدہ ہو جائے ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں جس کے پیچھے شرعی وجہ کی بنا پر مقتدی نماز پڑھنا پسند نہیں کرتے اگر امام میں کوئی ایسی وجہ موجود نہیں بلکہ وہ صالح اور امامت کا اہل ہے تو جو مقتدی اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو