امام کے پابندی نہ کرنے کی وجہ سے مقتدیوں کا دوسری مسجد میں جانا
سوال
مسئلہ ہے کہ محلہ کے قریب کی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے اگر امام وقت کا تعین نہ کرتا ہو تو کیسا ہے۔ دوسرے محلہ کی مسجد میں جماعت کی غرض سے مقتدی پہنچا عین جماعت کے وقت معلوم ہوا کہ امام صاحب نہیں ہیں بغیر اطلاع گئے ہیں اور اکثر ایسا ہو جاتا ہے اور دوسرا کوئی نماز پڑھانے والا نہیں نہ مقتدیوں میں اتفاق ہے کہ ان میں سے کسی کو چن لیں۔
جواب
امام صاحب کا بغیر اطلاع کئے اور بغیر جماعت کا انتظام کئے اکثر چلا جانا جس کی وجہ سے مسجد میں جماعت ہی نہ ہو بہت بُرا ہے امام صاحب کو خود بھی اس کا خیال رکھنا لازم ہے، اور سب نمازی اس کا انتظام کریں ورنہ جماعت کی پابندی کی خاطر نمازیوں کے دوسری مساجد میں چلے جانے سے مسجد کے ویران وغیر آباد ہونے کا اندیشہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔