امام استعفیٰ دینے کے بعد جب تک دوبارہ ملازمت کا معاملہ طے نہ ہو تنخواہ کا مستحق نہیں!
سوال
ایک امام صاحب محرم کی ۶ ریاے تاریخ کو جمعہ سے کچھ دیر پہلے یہ عہد نامہ لکھ کر اور مسجد میں رکھ کر اپنے گاؤں چلے گئے کہ میں اس بستی میں نہیں رہنا چاہتا جہاں بت پرستی ہوتی ہو لہذا میری تنخواہ کے چار سو روپے سے کچھ زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ ادا کر دینا یہ روپیہ اس لئے چڑھ گئے کہ بہت سے لوگ ان سے ناراض تھے، قریب پانچ مہینے تک ان کے روپے ادا نہیں ہوئے اور یہ اس بستی پر اپنی روزی سمجھتے ہوئے اپنے گھر بیٹھے رہے اور کہیں پیش امامت اختیار نہیں کی لہذا اپنے ساتھیوں سے ضرور ملتے رہے اور تقاضا بھی جاری رکھا غرض جوں توں کر کے سب پیسہ…
جواب
اگر وہ اپنی ملازمت ختم کر کے چلے گئے تھے تو جب تک دوبارہ ملازمت کا معاملہ طے نہ ہو جائے وہ تنخواہ کے مستحق نہیں ہوں گے جو نمازیں ان کے پیچھے پڑھی گئیں ہیں وہ ادا ہو گئیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔