الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سورہ فاتحہ میں سات جگہ سکتہ کرنے والے کی امامت

سوال

ایک شخص صفِ اولیٰ میں بیٹھنے کے باوجود تکبیر اولیٰ کی پرواہ نہیں کرتا، تسبیحات میں لگا رہتا ہے اور سورۂ فاتحہ میں سات جگہ سکتہ کرتا ہے۔ نیز امام قاعدہ اخیرہ کتنا ہی طویل کرے امام کے بائیں جانب سلام پھیرنے کے بعد دائیں جانب سلام پھیرتا ہے۔ ایسے شخص کو امامت کے لئے متعین کرنا جائز ہے یا نہیں، با کراہت جائز ہے یا بلا کراہت؟

جواب

جب وہ امام بنے گا تو کیا پھر بھی تکبیر اولیٰ کی پرواہ نہیں کریگا۔ اور اس کی صورت کیا ہوگی۔ سورہ فاتحہ میں سکتہ ثابت نہیں ہاں سات جگہ آیت ہے، سلام میں بھی امام کا اتباع کیا جائے تا ہم یہ امور ایسے نہیں کہ ان کی وجہ سے امامت مکروہ ہو اور جب امام بنے گا تو کیا پھر بھی سلام میں اتنی تاخیر کریگا اور اس کی صورت کیا ہو گی یعنی پہلا اور تیسرا حال اس کا خود بخود ختم ہو جائیگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو